گل و گلزار

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - پھول بوٹے، ہرا بھرا سبزہ، سبزہ کی جگہ، خوبصورت جگہ۔ "سازو سامان پیدا کیا بنجر زمینوں میں گل و گلزار کھلے۔"      ( ١٩٦٩ء، خشک چشمے کے کنارے، ١٠ ) ٢ - پررونق، پربہار، آباد۔ "انگریزی حکومت کے سبب سے اس وقت جزیرہ مالٹا گل و گلزار ہے۔"      ( ١٩٣٣ء، فراق دہلوی، مضامین، ٨ ) ٣ - سجا ہوا، خوبصورت، مزین۔ "گل و گلزار و دلچسپ بنا کر ادا کرنے کا حاصل ہے کہ آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔"      ( ١٩٣٩ء، مطالعہ حافظہ، ٤٥ ) ٤ - عروج شباب (کا زمانہ)۔ "گویا شاہنامے کے آغاز کا زمانہ اس کی زندگی کا گل و گلزار (زمانہ) تھا۔"      ( ١٩٤٦ء، شیرانی، مقالات، ١٣٢ )

اشتقاق

فارسی زبان سے ماخوذ اسم 'گل' کے ساتھ 'و' بطور حرف عطف لگا کر فارسی زبان ہی سے ماخوذ اسم 'گلزار' لگا کر مرکب عطفی 'گل و گلزار' بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٧٤٧ء کو "دیوان قاسم" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - پھول بوٹے، ہرا بھرا سبزہ، سبزہ کی جگہ، خوبصورت جگہ۔ "سازو سامان پیدا کیا بنجر زمینوں میں گل و گلزار کھلے۔"      ( ١٩٦٩ء، خشک چشمے کے کنارے، ١٠ ) ٢ - پررونق، پربہار، آباد۔ "انگریزی حکومت کے سبب سے اس وقت جزیرہ مالٹا گل و گلزار ہے۔"      ( ١٩٣٣ء، فراق دہلوی، مضامین، ٨ ) ٣ - سجا ہوا، خوبصورت، مزین۔ "گل و گلزار و دلچسپ بنا کر ادا کرنے کا حاصل ہے کہ آنکھیں چندھیا جاتی ہیں۔"      ( ١٩٣٩ء، مطالعہ حافظہ، ٤٥ ) ٤ - عروج شباب (کا زمانہ)۔ "گویا شاہنامے کے آغاز کا زمانہ اس کی زندگی کا گل و گلزار (زمانہ) تھا۔"      ( ١٩٤٦ء، شیرانی، مقالات، ١٣٢ )